Ghazal نہیں قبول کہ میخانے آنا جانا رہے

Discussion in 'FK Poet Club' started by شاہین فصیح ربانی, May 2, 2018.

  1. شاہین فصیح ربانی ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    13
    Likes Received:
    1
    Trophy Points:
    1
    غزل

    نہیں قبول کہ میخانے آنا جانا رہے
    ادھر جبین پہ روشن نشانِ سجدہ رہے

    یہ حادثہ ہو کبھی رونما تو کیسا رہے
    میں اس کو یاد رہوں اور وہ مجھ کو بھولا رہے

    عجب نظام ہے، دیتا ہے فیصلہ حق میں
    مگر ہے شرط کہ ملزم بیاں بدلتا رہے

    کرے گا کیسے منور دلوں کو نور اس کا
    غلاف بند اگر طاق میں صحیفہ رہے

    یہ راہ و رسم بناتی ہیں زندگی آساں
    جو یوں نہ ہو تو یہاں ہر کوئی اکیلا رہے

    اسے کہو کہ مری جاں نکل بھی سکتی ہے
    اسے کہو کہ مرے سامنے نہ رویا کرے

    تجھے تو اس کے سوا کام ہی نہیں کوئی
    فصیح کون ترے شعر سننے بیٹھا رہے

    شاہین فصیح ربانی
     

Share This Page