Others قریب روضہء اقدس صبا گئی کہ نہیں

Discussion in 'اردو شاعری' started by intelligent086, Mar 29, 2019.

  1. intelligent086 FK Lover FK Lover Member Of The Month

    Messages:
    22,556
    Likes Received:
    2,639
    Trophy Points:
    98

    قریب روضہء اقدس صبا گئی کہ نہیں
    مرا پیام بھی آقا کو دے سکی کہ نہیں

    دل حزیں ہے تجھے لطف زندگی کہ نہیں
    غم فراق نبی نے بھی دی خوشی کہ نہیں

    کہا نہ تھا د ل مضطر تو نا م لے ان کا
    اسی کے ورد سے راحت تجھے ملی کہ نہیں

    کسی کے قدموں کی برکت گلی سے خودپوچھو
    گز ر گئے و ہ جد ھر سے سنو ر گئی کہ نہیں

    گناہ سر کا جھکا نا تھا ان کے در پہ مگر
    جبین شو ق بتا تو و ہا ں جھکی کہ نہیں

    وفا کا یوں تو ہے دعوی حضور سے سب کو
    یہ دیکھنا ہے کہ ہے ربط و ا قعی کہ نہیں

    تلاش کرتی ہے محشر میں عاصیوں کی نظر
    ہو ئی حضو ر کی تشر یف آ و ر ی کہ نہیں

    بشر وہ جس کو ہے خیرالبشر کہا رب نے
    ہے یہ بھی ایک فضیلت بہت بڑی کہ نہیں

    حضور کی ہے یہ امت نہ پوچھ اے رضواں
    د ر و ن گلشن فر د و س جا ئے گی کہ نہیں

    سنا رہا ہوں زما نے کو شوق سے نعتیں
    یہ سو چتا ہو ں کہ سرکار نے سنی کہ نہیں

    حدیث پاک تو پڑھتے رہے عقیدت سے
    مگر بتائو! اطاعت بھی تم نے کی کہ نہیں

    کہی ہیں تو نے تو غزلیں بہت مگر رضوؔی
    کوئی پھڑکتی ہوئی نعت بھی کہی کہ نہیں

    کلام : عبد الرزاق پیکر رضؔوی (ہند
     
    Maria likes this.
  2. Maria ηεωвιε ηεωвιε Fk Member

    Messages:
    257
    Likes Received:
    81
    Trophy Points:
    28
  3. intelligent086 FK Lover FK Lover Member Of The Month

    Messages:
    22,556
    Likes Received:
    2,639
    Trophy Points:
    98
    ماشاءاللہ
    پسند رائے اور حوصلہ افزائی کا شکریہ
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
     

Share This Page