Kahaani فیس بک کہانی

Discussion in 'Fk Writers' started by Smile, Jan 27, 2018.

  1. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,606
    Likes Received:
    817
    Trophy Points:
    98
    فیس بک کہانی

    ********
    ”آپی کون خریدے گا ہم سے یہ
    پرس؟آج کل ہر چیز مل جاتی ہے بازار سے،میرے خیال سے اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔“سکول سے آ کر،کھانا کھانے کے بعد وہ زارا کے پاس رنگ برنگے ربن اور دھاگے لے کر بیٹھ گئی۔ ”محنت کا پھل انسان کو ضرور ملتا ہے گڑیا۔ ہم اپنے کام کی تشہیر کریں گے،تم دیکھنا ،ہمارے نہ صرف یہ پرس بکیں گے ،بلکہ ہمیں اور بھی آرڈرز ملیں گے۔اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ،ہم اپنی دستکاریاں،جائز داموں پر فروخت کریں گے تو ہر کوئی خریدے گا۔“وہ ایک پرس کی بنت پوری کرنے کے بعد،بنے ہوئے پارچے کو سادے کپڑے پر رکھ کر اسے مما کی مشین کے ذریعے سلائی کرنے لگی۔ تینوں کناروں کو سلائی لگا کر بند کرنے کے بعد اس نے چوتھے کناروں کو زپ لگا دی ،اور موتیوں کا پھندنا اور سٹرپ لگانے کے لئے پرس زارا کی طرف رکھ دیا۔مختلیف ڈیزائن کے دس بارہ پرس تیار ہو جانے کے بعد اس نے ان کی تصاویر بنائیں،اورضروری معلو مات کے ساتھ فیس بک پر لگا دیں۔ شام ہو چکی تھی۔ اس نےاپنے سامان کا ڈبہ اور مشین واپس ان کی جگہ پر رکھ دئے ۔ ”زارا!نماز پڑھ لو ،اور پھر بیٹھ کر پڑھنا بھی ہے تمھیں۔“اٹھارہ سالہ میمونہ پر جب ذمہ داری پڑی تو وہ گھر کی ایک ذمہ دار خاتون بن کر ،ایک ماں کی طرح زارا کا خیال رکھنے لگی تھی۔ شام کو فیس بک پر اپنی پوسٹنگ کا فیڈ بیک چیک کرنے لگی تو اسے کچھ مایوسی ہوئی۔ لائک اور کمنٹس کے انبار میں ،آرڈر کوئی بھی نہ تھا۔لیکن اس نے ہمت نہ ہاری۔اگلے دن پھر نئے ڈیزائن فیس بک پر ڈال دیئے۔اور ایک پیج بھی بنا لیا۔ پیج پر بھی روزانہ تصویریں لگاتی، اسے پہلا آرڈر پانچ بیگز کا ملا۔ جو اس نے جھٹ سے پیک کر کے پارسل بھیج دیا۔ اس بزس کے لئے اس نے قریبی بینک میں اکاٶنٹ کھلوا لیا۔ پہلے آرڈر کے ساتھ ہی دوسرا،تیسرا اور چوتھا۔ اس کے کام کی رفتار،اور ورائٹی بھی بڑھنے لگی۔ سادہ چوڑی پر ڈیزائننگ کر کے خوبصورت کڑے ،فیبرک فلاورز، ڈیکوریشن پیسز ،اور اس کے بعد اس نے ڈریس بھی ڈیزائن کرنا شروع کر دیئے۔اس کے بنائے ہوئےکپڑوں کی بہت مانگ تھی۔ مناسب دام ہونے کی بدولت اس کا بزنس خوب چمکا اٹھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔-۔۔۔ ﺁﺝ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﯽ ﺷﺎﺩﯼ ﺕﮭﯽ۔ ﻭﮦ ﺩﻝﮩﻥ ﺑﻦﯽ، ﺻﻮﻑﮯ ﭘﺭ ﺏﯿﭩﮭﯽ ﮐﻭﺉﯽ ﭘﺭﯼ ﮨﯽ ﻝﮓ ﺭﮨﯽ ﺕﮭﯽ۔ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎ ﺕ ﺍﻭﺭ ﺯﺍﺭﺍ ﮐﮯ ﺝﮩﯿﺯ ﮐﺍ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺭ ﻟﻮﮒ ﺡﯿﺭﺍﻥ ﮨﯽ ﺗﻮ ﺭﮦ ﮔﺉﮯ ﺕﮭﮯ۔ ﺍﺭﮮ ﮐﮩﺍﮞ ﺱﮯ ﺁﯾﺍ ﺍﺗﻨﺎ” ﭘﯿﺳﺎ۔۔؟ﭼﮭﻭﭨﮯ ﺱﮯ ﮔﮭﺭ ﻡﯿﮟ ﺍﺗﻨﺎ ﺧﺰﺍﻥﮧ ﮐﯿﺱﮯ ﺟﻤﻊ ﮐﯿﺍ؟“ﻋﻮﺭﺕﯿﮟ ﺁﭘﺱ ﻡﯿﮟ ﭼﮧ ﻡﮕﻭﺉﯿﺍﮞ ﮐﺭ ﺭﮨﯽ ﺕﮭﯿﮟ۔ ﺍﯾﮏ ﺁﻥﭩﯽ ﻥﮯ ﺗﻮ ﻡﯿﻣﻮﻥﮧ ﺱﮯ ﭘﻭﭼﮫ ﮨﯽ ﻝﯿﺍ۔ ﺍﺭﮮ ﮐﮩﺍﮞ ﺱﮯ ﺑﻨﺪﻭ ﺑﺴﺖ ﮨﻭﺍ” ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﺍﻥ ﺏﮭﺍﺭﯼ، “ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ ﮐﺍ؟ ﺍﻟﻞﮧ ﺗﻌﺎﻝﯽ ﮨﮯ ﻧﺎ،ﺟﻮ ﺳﺐ ﮐﺍ” ﮐﺍﺭﺳﺎﺯ ﮨﮯ۔“ﺍﺱ ﻥﮯ ﺭﺳﺎﻥ ﺱﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺍ۔ ﭘﮭﺭ ﺏﮭﯽ ﮐﻭﺉﯽ ﺗﻮ ﻭﺱﯿﻝﮧ” “ﺑﻨﺎ ﮨﻭ ﮔﺍ۔۔؟ ﺧﺎﻝﮧ!ﺁﭖ ﮐﻭ ﻋﻠﻢ ﻥﮩﯿﮟ ﮨﻭ ﮔﺍ” ﮐﮧ ﮨﻣﺎﺭﺍ ﭼﮭﻭﭨﺍ ﺳﺎ ﺍﯾﮏ ﺑﺰﻧﺲ ﮨﮯ۔ﻑﯿﺱ ﺏﮏ ﮐﯽ ﻭﺝﮧ ﺱﮯ ﮨﻣﺎﺭﮮ ﺑﻦﮯ ﮨﻭﺉﮯ ﭘﺍﺭﭼﮧ ﺟﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺖ ﻧﺊﮯ ڈﯾﺯﺍﺋﻦ ﮐﮯ ﮐﭙﮍﮮ ﺧﻮﺏ ﺏﮑﮯ۔ ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻡﯿﻥ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻡﯿﮟ ﻡﯿﺭﺍ ﺍﯾﮏ ﺳﻦﭩﺭ ﮨﮯ،ﺝﮩﺍﮞ ﻡﯿﮟ ﮐﭙﮍﮮ ﺁﺭڈﺭ ﭘﺭ ﺕﯿﺍﺭ ﮐﺭﺕﯽ ﮨﻭﮞ۔ﮨﺍﺕﮭﻭﮞ ﮨﺍﺕﮫ ﺏﮏ ﺟﺎﺕﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﺐ۔ ﺍﻟﻞﮧ ﮐﺍ ﮐﺭﻡ ﮨﮯ۔ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻡﯿﺭﺍ ﺍﺭﺍﺩﮦ ،ﮔﮭﺭ ﭘﺭ ﮨﯽ ﺑﻮﺕﯿﮏ ﺱﯿﭧ ﮐﺭﻥﮯ ﮐﺍ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻡﯿﮟ ﻣﺤﻞﮯ ﮐﯽ ﮨﻧﺮ ﻣﻨﺪ ﺧﻮﺍﺕﯿﻥ ﮐﻭ ﺏﮭﯽ ﮐﻣﺎﺉﯽ ﮐﺍ ﺍﯾﮏ ﺫﺭﯾﻉﮧ ﻡﮩﯿﺍ ﮨﻭﺱﮑﮯ ﮔﺍ ﺍﻥ ﺷﺎء ﺍﻟﻞﮧ۔“ﻡﯿﻣﻮﻥﮧ ﻥﮯ ﭘﻭﺭﯼ ﺗﻔﺺﯿﻝ ﺑﺘﺎﺉﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﻥﭩﯽ ﻣﺲﮑﺭﺍ ﺩﯾﮟ۔ ﺷﺎﺑﺎﺵ ﺏﯿﭩﺍ۔ ﭼﯿﺯﻭﮞ ﺍﻭﺭ” ﻣﻮﺍﻗﻊ ﮐﺍ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﯽ ﮐﺍﻡﯿﺍﺏﯽ ﮐﯽ ﺿﻤﺎﻧﺖ ﮨﮯ۔“ﻭﮦ ﺍﺱ ﮐﺍ ﮐﻧﺪﮬﺍ ﺕﮭﭙﺕﮭﭙﺍ ﮐﺭ ﮐﮩﺕﮯ ﮨﻭﺉﮯ ﺍﭘﻥﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﭘﮍﻭﺳﻦ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭼﻝﯽ ﮔﺉﯿﮟ۔

    از عرشیہ ہاشمی ۔۔۔۔۔۔-۔۔۔۔۔۔
     
  2. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,606
    Likes Received:
    817
    Trophy Points:
    98
  3. intelligent086 FK Lover FK Lover Member Of The Month

    Messages:
    22,432
    Likes Received:
    2,575
    Trophy Points:
    98
    کچھ پڑھی گئی کچھ پڑھی نہیں جا سکی
     

Share This Page