Ghazal فضائیں کیف بہاراں سے جب مہکتی ہیں

Discussion in 'اردو شاعری' started by SHAAN, Mar 13, 2018.

  1. SHAAN ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    23
    Likes Received:
    9
    Trophy Points:
    3
    [​IMG]

    فضائیں کیف بہاراں سے جب مہکتی ہیں


    فضائیں کیف - بہاراں سے جب مہکتی ہیں
    تو دل میں چوٹیں تری یاد کی کسکتی ہیں


    شفق کے رنگ بھی ان کا جواب لا نہ سکے
    کسی چہرے پہ جو سرخیاں دمکتی ہیں


    جنہیں تمہارا تبسّم ملا ہے، وہ نظریں
    فضا میں نور کے نغمے بکھیر سکتی ہیں


    کبھی کبھی تو ستاروں کے نرم سائے میں
    کسی کے جسم کی پرچھائیاں چمکتی ہیں


    سکوت- شب میں ترے انتظار کا عالم
    کہ جیسے دور کہیں پائلیں کھنکتی ہیں


    انہی کا نام کہیں مستئ بہار نہ ہو
    کلی کے سینے میں جو نکہتیں دمکتی ہیں


    ہو انتظار کسی کا مگر، مری نظریں
    نہ جانے کیوں تری آمد کی راہ تکتی ہیں


    جب ان کے آنے کی ......... امید ہی نہیں
    تو پھر نگاہیں خلاؤں میں کیوں بھٹکتی ہیں
     
    GREAT IQBAL likes this.
  2. GREAT IQBAL ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    43
    Likes Received:
    6
    Trophy Points:
    8
    بہت خـــــــــوب ۔۔۔ بہت عـمـــــــــــدہ
     

Share This Page