Ghazal سائے پھیل جاتے ہیں

Discussion in 'اردو شاعری' started by SHAAN, Mar 13, 2018.

  1. SHAAN ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    23
    Likes Received:
    9
    Trophy Points:
    3
    [​IMG]

    سائے پھیل جاتے ہیں



    سائے پھیل جاتے ہیں درد رُت کے ڈھلنے سے
    چہرہ کس کا بدلا ہے، آئینے بدلنے سے

    جنگلوں کے سنّاٹے رُوح میں اُترتے ہیں

    خواہشوں کے موسم میں پافگار چلنے سے

    خواب پِھر سے جاگے ہیں نِیم خواب آنکھوں میں

    گھنٹیاں سی بجتی ہیں آرزو بدلنے سے

    گرد گرد چہرہ ہے وحشتوں کے ڈیرے میں

    تھک گیا ہوں کتنا میں دائروں میں چلنے سے

    آؤ ایسا کرتے ہیں، راہبر بدلتے ہیں

    دیکھیں کون مِلتا ہے منزلیں بدلنے سے

    ظُلمتوں کے چہرے سے آئینے ہٹا ڈالو

    روشنی تو ہو گی کچھ جگنوؤں کے جلنے سے

    رقص ہے شراروں کا آج راہگزاروں پر

    بستیاں نہ جل جائیں راستوں کے جلنے سے

    ذہن کے سُلگنے سے جسم راکھ ہوتا ہے

    زخم جلنے لگتے ہیں چاند کے نِکلنے سے
     
    GREAT IQBAL likes this.
  2. GREAT IQBAL ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    43
    Likes Received:
    6
    Trophy Points:
    8
    بہت خـــــــــوب ۔۔۔ بہت عـمـــــــــــدہ
     

Share This Page