Short Story رہائی

Discussion in 'Fk Writers' started by Smile, Jan 7, 2018.

  1. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,612
    Likes Received:
    817
    Trophy Points:
    98
    ‎”رہائی“
    از عرشیہ ہا شمی
    ‎رات دھیرے دھیرے سرک رہی تھی،مگر نیند ابھی تک اس کی
    ‎آنکھوں سے کوسوں دو ر تھی۔ وہ بیڈ کے عین وسط میں اپنے گھٹنوں پر سر رکھے گہری سوچ میں گم تھی۔ آنسو تواتر سے بہتے ہوئے اس کے گلابی گالوں سے ہوتے ہوئے اپنی منزل کو رواں دواں تھے۔ خطرے کی تیز تلوار اس کے سر پر لٹک رہی تھی،اسی خطرے کا حل تلاشتے ہوئے رات بیت رہی تھی،مگر اسے کوئی راہ نجات نہ سوجھ پائی تھی۔ رات کے اس مہیب سناٹے کے بعد،کل کا سورج اسے کہاں لے جائے گا،کچھ معلوم نہ تھا۔ وہ کیا کرے گی،کہاں جائے گی،اسے کچھ اندازہ نہیں تھا۔ اگر کچھ تھا تو۔۔۔ایک امید تھی، اپنے اللہ سے ۔۔۔!!
    ‎اسے یقین تھا،کہ اس کا رب اس کی آبرو پر کبھی آنچ نہیں آنے دے گا۔اسے امید تھی کہ اجالوں کا رب ،رات کے دامن میں چھپی سیاہی کا بھدا سایہ، اس کے نصیب پر نہیں پڑنے دے ۔
    ‎امید کی اس کرن کے باوجود اس کا دل تفکر کے گہر ےسمندر میں ڈوب رہا تھا۔ اسے رہ رہ کر اماں اور تنو کی یاد ستا رہی تھی۔ اسے اندازہ تھا کہ دن کی دہلیز پر دستک دینے کو تیار سورج ،اس کی بہن تنو کے کردار میں بھی ایک سیاہ پیوند لگا دے گا،اور یہی سیاہ داغ اس کی پیاری اماں کے دل کو بھی چھلنی کر ڈالے گا۔۔۔ اور،شاہ ریز،جسے اس نے ٹوٹ کر چاہا ہے، جس کی محبت اس کے لئے آکسیجن کا درجہ رکھتی تھی،وہ تو ٹوٹ ہی جائے گا،وہ اسے بے وفا سمجھے گا،اور کیوں نہ سمجھے۔۔کہ مہندی کی رات ایک لڑکی اپنے گھر سے غائب ہو جائے،تو دنیا اس کا کیا مطلب لیتی ہے،وہ اچھی طرح جانتی تھی۔ وہ اسے دھتکار دے گا۔ اس کا غیرت مند شاہ ریز،اسے اب کبھی نہیں اپنائے گا،اس کے دل میں چھپے خدشات آنسوٶں کی صورت بہنے لگے تھے۔
    ‎”اللہ پاک!زندگیاں تیر ے کن کی محتاج ہیں۔تو کن کہہ دے تو میری زندگی پر لگا یہ کالا دھبہ صاف ہو جائے۔اللہ پاک اس سے پہلے کہ یہ لوگ مجھے آگے کہیں بھیجیں،مجھے رہائی دلا مولا۔“اس کا دل سجدہ ریز ہو گیا۔
    ‎اس نے خشک ہو جانے والی مہندی بھرے ہاتھ اس رب کے سامنے پھیلائے ،اور اپنی ساری پریشانی اس کے سامنے ڈالی، تو اس کا دل گہرے سکون سے بھر گیا۔
    ‎عین اسی لمحے دروازے سے باہر کوریڈور میں، تیز ی سے کمرے کی طرف بڑھتے بھاری بوٹوں کی آوازیں آنے لگیں،تو دعا کو اٹھے ہاتھ،سر پر اوڑھی سیاہ چادر کی طرف بڑھے،اور اس کا خوبصورت چہرہ سیاہ لبادے میں چھپ گیا۔ اس کے گھٹنوں کے گرد نمو کی گرفت اور بھی مضبوط ہو گئ۔
    ‎”یہ۔۔۔۔وہی ہےناں یاور! جس کا نمبر میں نے دیا تھا تجھے؟“ دل ،جو گلے میں آ کر دھڑکنے لگا تھا،ایک لمحے کو ساکت ہو گیا۔اس نے اپنے کانپتے ہوئے ہاتھ سے ،چہرے پر پڑا پلو پیچھے کر کے اندر آنے والے صیاد کو دیکھا۔
    ‎دعا مقبول ٹھہری تھی۔ اسے رہائی مل گئی تھی۔ محبت کی قید سے رہا ہونے کی خوشی میں اس کی آنکھیں ایک بار پھر بھر آئیں،تو اس نے ہاتھ بڑھاکر بے دردی سے اپنا چہرہ پونچھ ڈالا۔
     
    ShahXu and Pooh like this.
  2. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,612
    Likes Received:
    817
    Trophy Points:
    98
  3. ShahXu Superman Staff Member Originals Fk Designer FK Lover

    Messages:
    22,758
    Likes Received:
    1,427
    Trophy Points:
    123
    Bhttttt khoob likhaa hai @Smile
    perh kar achaa lagaa zbrdastt..
    thora pheka lag rha tha to main ne rang bhi bhar diye :p
     
    Smile likes this.

Share This Page