دو موتیں دو زندگیاں

Discussion in 'Islamic Discussions' started by Smile, Jul 5, 2017.

  1. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,574
    Likes Received:
    803
    Trophy Points:
    98
    دو موتیں دو زندگیاں
    اللہ تعالی فرماتا ہے :
    كَيْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَكُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْيَاكُمْ ۚ ثُمَّ يُمِيْتُكُمْ ثُمَّ يُحْيِيْكُمْ ثُمَّ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ 28؀
    ’’ تم کیسے اللہ کا کفر کرتے ہو تم مرے ہوئے تھے اللہ نے تمہیں زندہ کیا، پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے ،پھر تمہیں زندہ کرے گا اور پھر تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔ ‘‘ ( سورہ البقرہ : ۲۸ )
    اس آیت میں انسانی زندگی کے چار ادوار بیان کئے گئے ہیں جو ہر انسان کے لئے ہیں۔ سورہ المومن میں اس کا دوبارہ ذکر کیا گیا :
    قَالُوْا رَبَّنَآ اَمَتَّنَا اثْنَتَيْنِ وَاَحْيَيْتَنَا اثْنَتَيْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِيْلٍ 11؀
    ’’وہ کہیں گے اے ہمارے رب واقعی تو نے ہم کو دو مرتبہ موت بھی دے دی اور دو مرتبہ زندگی بھی بخش دی سو ہم نے اعتراف کرلیا اپنے گناہوں کا تو کیا اب نکلنے کی کوئی صورت ہوسکتی ہے؟‘‘ ( المومن : ۱۱ )
    واضح ہوا کہ ہر انسان کو ان چار مراحل سے گزرنا ہوتا ہے۔
    ۱: پہلی موت
    ۲: پہلی زندگی
    ۳: دوسری موت
    ۴: دوسری زندگی
    پہلی موت :
    اللہ تعالی نے پہلی انسانی زندگی سے قبل ایک موت کا ذکر فرمایا ہے، سورہ اعراف میں فرمایا گیا :
    وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْٓ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰٓي اَنْفُسِهِمْ ۚ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ ۭ قَالُوْا بَلٰي ڔ شَهِدْنَا ڔ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَ ١٧٢؀ۙ
    ’’ اور جب تمہارے رب نے اولاد آدم کی پشت سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان سے ان ہی کے متعلق اقرار لیا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں ۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہمیں اس کی خبر نہیں تھی۔‘‘ ( سورہ اعراف : ۱۷۲ )
    معلوم ہوا کہ انسانی روحیں موجود تھیں، لیکن اللہ تعالی اسے موت کا دور بیان فرمایا۔
    پہلی زندگی :
    پہلی موت کے اس دور کے بعد انسانی کی پہلی زندگی کا دور آتا ہے ، مالک کائنات فرماتا ہے :
    وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰـلَـةٍ مِّنْ طِيْنٍ 12 ؀ۚ ثُمَّ جَعَلْنٰهُ نُطْفَةً فِيْ قَرَارٍ مَّكِيْنٍ 13۝۠ ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَـلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَـلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظٰمًا فَكَسَوْنَا الْعِظٰمَ لَحْــمًا ۤ ثُمَّ اَنْشَاْنٰهُ خَلْقًا اٰخَرَ ۭفَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِيْنَ 14؀ۭثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ 15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ 16؀
    ’’ اور ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا ہے ،پھر اس کو اس کو مضبوط (اور محفوظ) جگہ میں نطفہ بنا کر رکھا،پھر نطفے کو لوتھڑا بنایا پھر لوتھڑے کی بوٹی بنائی پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں پھر ہڈیوں پر گوشت (پوست) چڑھایا پھر اس کو نئی صورت میں بنا دیا تو خدا جو سب سے بہتر بنانے والا ہے بڑا بابرکت ہے،پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘
    ( المومنون : ۱۲ تا ۱۶ )
    الَّذِيْٓ اَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهٗ وَبَدَاَ خَلْقَ الْاِنْسَانِ مِنْ طِيْنٍ Ċ۝ۚثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهٗ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ مَّاۗءٍ مَّهِيْنٍ Ď۝ۚ ثُمَّ سَوّٰىهُ وَنَفَخَ فِيْهِ مِنْ رُّوْحِهٖ وَجَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْـــِٕدَةَ ۭ قَلِيْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ Ḍ؀
    ’’ جس نے ہر چیز کو بہترین صورت میں بنایا اور انسان کی تخلیق مٹی سے کی، اور پھر اس کی نسل ایک حقیر پانی سے چلائی، پھر اسے (رحم مادر میں ) درست کیا اور اپنی روح پھونکی اور تمہارے کان، آنکھیں اور دل بنائے ، تم لوگ کم ہی شکرگزار ہوتے ہو۔‘‘
    ( السجدہ : ۷ تا ۹ )
    قال عبد الله حدثنا رسول الله صلی الله عليه وسلم وهو الصادق المصدوق قال إن أحدکم يجمع خلقه في بطن أمه أربعين يوما ثم يکون علقة مثل ذلک ثم يکون مضغة مثل ذلک ثم يبعث الله ملکا فيؤمر بأربع کلمات ويقال له اکتب عمله ورزقه وأجله وشقي أو سعيد ثم ينفخ فيه الروح فإن الرجل منکم ليعمل حتی ما يکون بينه وبين الجنة إلا ذراع فيسبق عليه کتابه فيعمل بعمل أهل النار ويعمل حتی ما يکون بينه وبين النار إلا ذراع فيسبق عليه الکتاب فيعمل بعمل أهل الجنة
    عبداللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اور وہ صادق و مصدوق تھے کہ تم میں سے ہر ایک کی پیدائش ماں کے پیٹ میں پوری کی جاتی ہے چالیس دن تک (نطفہ رہتا ہے) پھر اتنے ہی دنوں تک مضغہ گوشت رہتا ہے پھر اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ کو چار باتوں کا حکم دے کر بھیجتا ہے اور اس سے کہا جاتا ہے کہ اس کا عمل اس کا رزق اور اس کی عمر لکھ دے اور یہ (بھی لکھ دے) کہ وہ بد بخت (جہنمی) ہے یا نیک بخت (جنتی) پھر اس میں روح پھونک دی جاتی ہے بیشک تم میں سے
    ایک آدمی ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور جنت کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اس کا نوشتہ (تقدیر) غالب آجاتا ہے اور وہ دوزخیوں کے عمل کرنے لگتا ہے اور (ایک آدمی) ایسے عمل کرتا ہے کہ اس کے اور دوزخ کے درمیان (صرف) ایک گز کا فاصلہ رہ جاتا ہے کہ اتنے میں تقدیر (الٰہی) اس پر غالب آجاتی ہے اور وہ اہل جنت کے کام کرنے لگتا ہے۔
    ( بخاری ، مخلوقات کی ابتداء کا بیان،باب: فرشتوں کا بیان ۔ ۔ ۔ ۔ ۔)
    قرآن و حدیث کے بیان سے واضح ہوا کہ انسان کی پہلی موت کا دور وہ ہے کہ جب روح موجود ہوتی ہے اور مگر یہ انسانی جسم نہیں ہوتا، یعنی جسم اور روح کی جدائی کا دور ہی موت کادور کہلاتا ہے۔ اس دور کے بعد انسان کی زندگی کا پہلا دور شروع ہوتا ہے، جب یہ انسانی جسم بنایا جاتا اور اس میں اس کی روح ڈال دی جاتی ہے۔گویا روح اور مٹی سے بنے اس انسانی جسم کے مل جانے کو ’’زندگی ‘‘ کہتے ہیں، اور اس دور کا اختتام انسان کی موت پر ہوتا ہے۔
    انسان کی دوسری موت :
    قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے :
    وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰي عَلَي اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ اِلَيْهِ شَيْءٌ وَّمَنْ قَالَ سَاُنْزِلُ مِثْلَ مَآ اَنْزَلَ اللّٰهُ ۭ وَلَوْ تَرٰٓي اِذِ الظّٰلِمُوْنَ فِيْ غَمَرٰتِ الْمَوْتِ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ بَاسِطُوْٓا اَيْدِيْهِمْ ۚ اَخْرِجُوْٓا اَنْفُسَكُمْ ۭ اَلْيَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللّٰهِ غَيْرَ الْحَقِّ وَكُنْتُمْ عَنْ اٰيٰتِهٖ تَسْتَكْبِرُوْنَ 93؀ ( الانعام : ۹۳ )
    ’’اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگاجو اللہ پر بہتان باندھے یاکہے کہ میری طرف وحی کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہ کی گئی ہو، یا جو کہتا ہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کرسکتا ہوں جو اللہ نے نازل کی ہے؟ کاش تم ان ظالموں کو دیکھو موت کی سختیوں اور فرشتے ان کی طرف اپنے ہاتھ پھیلائے ہوتے ہیں (اور کہتے ہیں) :نکالو اپنی روحوں کو، آج تمہیں ذلت کا عذاب دیا جائے گا کیونکہ تم ناحق باتیں اللہ کے لئے کہا کرتے دیکھا تھے اور اس کی آیتوں سے استکبارکرتے تھے۔'' ( الانعام: ۶۲)
    وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهٖ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً ۭﱑ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُوْنَ 61؀ ثُمَّ رُدُّوْٓا اِلَى اللّٰهِ مَوْلٰىهُمُ الْحَقِّ ۭ اَلَا لَهُ الْحُكْمُ ۣ وَهُوَ اَسْرَعُ الْحٰسِبِيْنَ 62؀
    ’’اور وہ اپنے بندوں پر غالب ہے اور تم پر نگہبان بھیجتا ہے یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت آتی ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے( فرشتے) اس کی روح قبض کرلیتے ہیں اور کوئی غلطی نہیں کرتے۔پھر تم پلٹائے جاتے ہو اللہ کی طرف جو تمہارا حقیقی مولی ہے اور وہ بہت جلد حساب لینے والا ہے۔‘‘
    اَللّٰهُ يَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِيْنَ مَوْتِهَا وَالَّتِيْ لَمْ تَمُتْ فِيْ مَنَامِهَا ۚ فَيُمْسِكُ الَّتِيْ قَضٰى عَلَيْهَا الْمَوْتَ وَيُرْسِلُ الْاُخْرٰٓى اِلٰٓى اَجَلٍ مُّسَمًّى ۭ اِنَّ فِيْ ذٰلِكَ لَاٰيٰتٍ لِّــقَوْمٍ يَّتَفَكَّرُوْنَ 42؀ ( الزمر : ۴۲ )
    ’’ اللہ روحوں کو قبض کرلیتا ہے عین ان کی موت کے وقت، جو نہیں مرے ان کی سوتے ہوئے، پھر روک لیتا ہے اس کی روح جس کی موت کا فیصلہ ہوجائے اور چھوڑ دیتا ہے باقی روحوں کو ایک طے شدہ وقت تک کے لئے، بے شک اس میں نشانیاں ہیں غور و فکر کرنے والوں کے لئے۔‘‘
    حَتّيٰٓ اِذَا جَاۗءَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ رَبِّ ارْجِعُوْنِ 99۝ۙلَعَلِّيْٓ اَعْمَلُ صَالِحًا فِيْمَا تَرَكْتُ كَلَّا ۭ اِنَّهَا كَلِمَةٌ هُوَ قَاۗىِٕلُهَا ۭ وَمِنْ وَّرَاۗىِٕهِمْ بَرْزَخٌ اِلٰى يَوْمِ يُبْعَثُوْنَ ١٠٠؁
    ’’ یہاں تک کہ ان میں سے کسی ایک موت آتی ہے ( تو) کہتا ہے اے میرے رب مجھے واپس لوٹا دے، تاکہ میں نیک عمل کروں جسے میں چھوڑ آیا ہوں، ( اللہ تعالی فرماتا ہے ) ہزگز نہیں، یہ تو محض ایک بات ہے جو یہ کہہ رہا ہے ، اور ان سب کے پیچھے ایک آڑ ہے اٹھائے جانے والے دن تک ‘‘ ( المومنون ۹۹۔۱۰۰ )
    ان آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ زندگی کے اس دور کے بعد موت کا دور شروع ہوتا ہے، مٹی سے بنے اس جسم سے روح نکال لی جا تی اور اللہ تعالی کے پاس لے جائی جاتی ہے ۔ اللہ تعالی اس روح کو قیامت تک کے لئے روک لیتا ہے ۔ یہی بات سورہ المومنون میں فرمائی گئی : ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ 15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ 16؀ ’’ پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ واضح ہوا کہ موت کے معنی روح اور جسم کی علیحدگی ہے اور اب یہ دور قیامت تک چلنا ہے یعنی قیامت سے قبل یہ جسم و روح نہیں ملیں گے۔
    انسان کی دوسری زندگی:
    ثُمَّ اِنَّكُمْ بَعْدَ ذٰلِكَ لَمَيِّتُوْنَ 15؀ۙثُمَّ اِنَّكُمْ يَوْمَ الْقِيٰمَةِ تُبْعَثُوْنَ 16؀ ’’ پھر اس کے بعد تم مر جاؤگے،پھر تم قیامت کے دن اٹھائے جاؤ گے ۔‘‘ اس بات کی دلیل ہے کہ انسان کو قیامت کے دن دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اس بارے میں قرآن و ھدیث میں یہی بیان ملتا ہے کہ اللہ تعالی قیامت کے دن ان سڑے گلے جسموں کو دوبارہ بنا کر انہیں زندہ کرے گا اور پھر انسانیت کا فیصلہ ہوگا۔ اب انہیں جو زندگی ملے گی اس کا خاتمہ نہیں ہوگا۔
    قرآن کے اس واضح بیان کے باوجود ان فرقوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد انسان کی روح واپس اس کے جسم میں لوٹادی جاتی ہی ہے۔ روح کا اس جسم میں واپس آجانا قرآن و صحیح احادیث کا کھلا انکار ہے، اسی طرح موت کے بعد قیامت سے قبل روح اور اس مٹی سے بنے جسم کا ایکدوسرے سے مل جانا ایک تیسری زندگی کا عقیدہ فراہم کرتا ہے جو یقینا قرآن کی مندرجہ بالا آیات کا کھلا انکار ہے ۔
    قرآن مجید میں اللہ تعالی نے اس موت کے بعد ایک اور مرحلہ بیان فرمایا ہے:
    وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ١٥٤؁
    ’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اسکا شعور نہیں ۔ ( البقرۃ : ۱۵۴ )
    وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ١٦٩؁ۙ
    ’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے ہیں۔ ‘‘ ( آل عمران : ۱۶۹ )
    معلوم ہوا کہ وہ لوگ اللہ میں قتل کردئیے گئے ہیں یعنی انہیں موت آگئی ہے جسم و روح میں علیحدگی ہو گئی ، جنکے جسم ہر قسم کے شعور و حواس سے بیگانہ ہوچکے ہیں، ان کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے انسانو ! تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہے۔کہاں زندہ ہیں؟ فرمایا : اللہ کے پاس ۔
    اسے بنیاد بنا کر کچھ کم علم لوگوں نے ہم پر فتوی لگا دیا ہے کہ تم ہی خود دو زندگیوں کے انکاری ہو، ایک تیسری زندگی کا عقیدہ تم خود بھی رکھتے ہو۔ دراصل فرقے تعصب کی لڑائی لڑتے ہیں، ان میں قرآن فہمی اور علمیت نام کو بھی نہیں ہوتی۔ کاش کہ یہ قرآن و حدیث سے واقف ہوتے تو کبھی بھی ایسی بات منہ سے نہیں نکالتے۔ یہ فتوی جو یہ ہم لگا رہے ہیں انہیں چاہئیے کہ وہ یہ فتوی اللہ اور رسول ﷺ پر لگائیں، کیونکہ دو موت اور دو زندگی کا عقیدہ ہم نے نہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ کا بیان کردہ ہے اور اس موت کے بعد ایک اور زندگی کا عقیدہ بھی ہم نے نہیں اللہ اور رسول اللہ ﷺ ہی نے دیا ہے۔ اپنی جہالت کی بنائ پر جو بات انہوں نے کہی ہے ان شائ اللہ تعالی قرآن و حدیث کے دالئل دیکر واضح کریں گے کہ یہ دو متضاد باتیں نہیں بلکہ بالکل علیحدہ معملات ہیں جنہیں یہ فرقہ پرست نہیں سمجھ سکے۔
    وضاحت :
    وَلَا تَـقُوْلُوْا لِمَنْ يُّقْتَلُ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتٌ ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ وَّلٰكِنْ لَّا تَشْعُرُوْنَ ١٥٤؁
    ’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہیں، لیکن تمہیں اسکا شعور نہیں ۔ ( البقرۃ : ۱۵۴ )
    وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِيْنَ قُتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اَمْوَاتًا ۭ بَلْ اَحْيَاۗءٌ عِنْدَ رَبِّھِمْ يُرْزَقُوْنَ ١٦٩؁ۙ
    ’’ اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں ، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں رزق پاتے ہیں۔ ‘‘ ( آل عمران : ۱۶۹ )
    معلوم ہوا کہ وہ لوگ اللہ میں قتل کردئیے گئے ہیں یعنی انہیں موت آگئی ہے جسم و روح میں علیحدگی ہو گئی ، جنکے جسم ہر قسم کے شعور و حواس سے بیگانہ ہوچکے ہیں، ان کے لئے اللہ تعالی نے فرمایا کہ اے انسانو ! تم انہیں مردہ نہ کہو بلکہ وہ زندہ ہے۔کہاں زندہ ہیں؟ فرمایا : اللہ کے پاس ۔
    اللہ تعالی کہاں ہے ؟
    اِنَّ رَبَّكُمُ اللّٰهُ الَّذِيْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ فِيْ سِتَّةِ اَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَي الْعَرْشِ يُدَبِّرُ الْاَمْرَ ۭ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۝
    ’’ بے شک تمہارا اللہ ہے جس نے چھ دنوں میں آسمانوں اور زمین کو پیدا پھر, مستوی عرش ہوگیاْ‘‘ ( یونس : ۳ )
    اَلرَّحْمَنُ عَلَي الْعَرْشِ اسْتَوٰى Ĉ۝ ’’ جو رحمٰن ( اللہ )ہے، عرش پر قائم ہے۔ ‘‘ ( طٰہٰ : ۵ )
    سورہ آل عمران کی شہدا والی آیت کی تفسیر میں نبی ﷺ نے فرمایا :
    بْنِ مُرَّةَ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ سَأَلْنَا عَبْدَ اللَّهِ عَنْ هَذِهِ الْآيَةِ وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَائٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ قَالَ أَمَا إِنَّا قَدْ سَأَلْنَا عَنْ ذَلِکَ فَقَالَ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ لَهَا قَنَادِيلُ مُعَلَّقَةٌ بِالْعَرْشِ تَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شَائَتْ ثُمَّ تَأْوِي إِلَی تِلْکَ الْقَنَادِيلِ فَاطَّلَعَ إِلَيْهِمْ رَبُّهُمْ اطِّلَاعَةً فَقَالَ هَلْ تَشْتَهُونَ شَيْئًا قَالُوا أَيَّ شَيْئٍ نَشْتَهِي وَنَحْنُ نَسْرَحُ مِنْ الْجَنَّةِ حَيْثُ شِئْنَا فَفَعَلَ ذَلِکَ بِهِمْ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ فَلَمَّا رَأَوْا أَنَّهُمْ لَنْ يُتْرَکُوا مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا قَالُوا يَا رَبِّ نُرِيدُ أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا فِي أَجْسَادِنَا حَتَّی نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ مَرَّةً أُخْرَی فَلَمَّا رَأَی أَنْ لَيْسَ لَهُمْ حَاجَةٌ تُرِکُوا
    ہم نے عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس آیت کے بارے میں سوال کیا جنہیں اللہ کے راستہ میں قتل کیا جائے انہیں مردہ گمان نہ کرو بلکہ وہ زندہ ہیں اپنے رب کے پاس سے رزق دیئے جاتے ہیں تو انہوں نے کہا ہم نے بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں سوال کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ان کی روحیں سر سبز پرندوں کے جسموںمیں ہیں ،ان کے لئے ایسی قندیلیں ہیں جو عرش کے ساتھ لٹکی ہوئی ہیں اور وہ جنت میں جہاں چاہیں پھرتی رہتی ہیں پھر انہی قندیلوں میں واپس آ جاتی ہیں۔ ان کا رب ان کی طرف متوجہ ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا تمہیں کسی چیز کی خواہش ہے ، انہوں نےعرض کیا ہم کس چیز کی خواہش کریں حالانکہ ہم جہاں چاہتے ہیں جنت میں پھرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان سے اس طرح تین مرتبہ فرماتا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ انہیں کوئی چیز مانگے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا، تو انہوں نے عرض کیا : اے رب ،ہم چاہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیں یہاں تک کہ ہم تیرے راستہ میں دوسری مرتبہ قتل کئے جائیں جب اللہ نے دیکھا کہ انہیں اب کسی چیز کی ضرورت نہیں تو انہیں چھوڑ دیا ۔‘‘( مسلم ، کتاب امارت و خلافت ، باب : شہدا کی روحیں )
    واضح ہوا کہ موت کے بعد جس زندگی کا قرآن میں ذکر کیا گیا ہے وہ اس جسد عنصری ( مٹی کے بنے جسم) کیساتھ نہیں بلکہ فرمایا گیا کہ أَرْوَاحُهُمْ فِي جَوْفِ طَيْرٍ خُضْرٍ ’’ انکی روحیں سبر اڑنے والے جسموں میں ہیں ‘‘۔ یعنی جیسا کہ اس سے قبل اس روح کو ایک مٹی کے جسم میں ڈالا گیا تھا اب اسی طرح اسی روح کو ایک اڑنے والے جسم میں ڈالدیا گیا ہے۔ اور یہ ایسا جسم ہے کہ جو کھا پی بھی رہا ہے اور جنت کی نعمتوں سے لطف اندوز بھی ہو رہا ہے۔ جب اللہ تعالی ان کی خواہش معلوم کرتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہماری روحوں کو واپس ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے، یعنی انکی روحیں ان کے اصل جسم میں نہیں۔
    اللہ رب العزت نے ایک طرف اس دور کو ‘‘ موت ‘‘ کا دور قرار دیا تو اسی دورانیئے میں ایک دوسری ’’زندگی‘‘ کا بھی بیان فرمایا۔ ان دونوں زندگیوں کا فرق یہی ہے کہ ایک اسی دنیا میں اور جسد عنصر کیساتھ ہے تو دوسری ایک دوسری برزخی جسم اور جنت ( عالم برزخ یعنی برزخ کےپیچھے کا عالم ) میں بیان کی گئی ہے۔
    یہ تیسری زندگی نہیں کہلائی جا سکتی کیونکہ یہ اس جسد عنصری کیساتھ نہیں لیکن جو لوگ یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ مرنے کے بعد اس جسد عنصری میں روح لوٹا دی جاتی ہے وہ ایک تیسری زندگی کا عقیدہ رکھتے ہیں جو کہ مکمل طور پر قرآن کا انکارہے۔
    کچھ افراد یہ بھی کہتے ہیں کہ عالم برزخ میں کوئی جسم نہیں ملتا ، یہ جو سبز پرندوں کا ذکر ہے تو روح پرندوں کے اوپر سوار ہوتی ہے جیسے کوئی ہوائی جہاز میں بیٹھ کر سفر کر رہا ہوتا ہے۔
    وضاحت : حدیث کے الفاظ ہیں : أَرْوَاحُهُمْ ’’ ان کی روحیں ‘‘ فِي ’’ میں ‘‘ جَوْفِ ’’ قالب جسم ‘‘ طَيْرٍ ’’ اڑنے والے ‘‘ خُضْرٍ ’’ سبز ‘‘۔
    یعنی ان کی روحیں ان پر سوار نہیں بلکہ ان کے اندر ہیں جیسا کہ اس وقت ہمارے اس جسم کے اندر ہماری روح ہے۔ مزید اسی حدیث کے الفاظ پر غور کریں :
    فَلَمَّا ’’ جب ‘‘ رَأَوْا ’’ انہوں نے دیکھا ‘‘ أَنَّهُمْ ’’ کہ وہ ‘‘لَنْ يُتْرَکُوا ’’نہیں چھوڑے جائیں گے ‘‘ مِنْ أَنْ يُسْأَلُوا’’ اللہ تعالیٰ کے سوال کرنے سے ‘‘ قَالُوا ’’ ان سب نے کہا ‘‘ يَا رَبِّ نُرِيدُ ’’ اے ہمارے رب ہم چاہتے ہیں ‘‘أَنْ تَرُدَّ أَرْوَاحَنَا ’’ کہ ہماری روحیں لوٹا دی جائیں ‘‘ فِي أَجْسَادِنَا ’’ ہمارے جسموں میں ‘‘ حَتَّی ’’ یہاں تک کہ ‘‘ نُقْتَلَ فِي سَبِيلِکَ ’’ ہم قتل کردئیے جائیں تیری راہ میں ‘‘ مَرَّةً أُخْرَی ’’ دوبارہ ‘‘ ، اب یہ کون کہہ رہا ہے کہ ہماری روحوں کو ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے، اگر وہ پرندے ہیں تو وہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ہماری روحوں کو واپس ہمارے جسموں میں لوٹا دیا جائے ، پرندے کا جسم انسانی جسم تو نہیں ہوتا جس میں لوٹائے جانے کی درخواست کی جا رہی ہے۔ واضح ہوا کہ شہید ہو جانے والوں کی روح کو اڑنے والے جسموں میں ڈالدیا گیا ہے اور وہی جسم یہ بات کہہ رہا ہے۔
    لیکن کہا جاتا ہے کہ طَيْرٍ معنی صرف پرندہ ہیں۔دراصل اس کے پیچھے فرقہ پرساتوں کا یہ عقیدہ ہے کہ مرنے کے بعد جزا سزا اسی مٹی کی قبر میں ہے نکہیں اور نہیں اسی لئے حدیث کے الفاظ کو مشکوک بنانے کی کیوشش کی جاتی ہے۔ مؤطا امام مالک میں نبیﷺ کی حدیث ہے :
    عَنْ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَاهُ کَعْبَ بْنَ مَالِکٍ کَانَ يُحَدِّثُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا نَسَمَةُ الْمُؤْمِنِ طَيْرٌ يَعْلَقُ فِي شَجَرِ الْجَنَّةِ حَتَّی يَرْجِعَهُ اللَّهُ إِلَی جَسَدِهِ يَوْمَ يَبْعَثُهُ
    ’’ کہ رسول ﷺ نے فرمایا کہ مومن کی روح ایک اڑنے والے جسم میں وابستہ رہتی ہے جنت میں درخت سے یہاں تک کہ اللہ اسے لوٹا اس کے جسم کی طرف قیامت کے دن ‘‘۔ ( مؤطا امام مالک، کتاب الجنائز )
    جنگ موتہ میں جعفر ؓ بن ابی طالب کے دونوں ہاتھ کاٹ ڈالے گئے تھے ترمذی کی ایک روایت میں نبیﷺ فرماتے ہیں :
    رَأَيْتُ جَعْفَرًا يَطِيرُ فِي الْجَنَّةِ مَعَ الْمَلَائِکَةِ ۔ ۔ میں نے جعفر کو جنت میں فرشتوں کے ساتھ اڑتے ہوئے دیکھا ۔ ۔ ۔ اب یہاں يَطِيرُ کا لفظ آیا ہے ، یعنی اڑ رہے تھے، فرشتوں کیساتھ اڑ رہے تھے ، اب فرقہ پرستوں کے معنی لگائے جائیں تو اس کے معنی کیا یہ ہوں گے کہ جعفر ؓ جنت میں فرشتوں کیساتھ پرندہ بن گئے تھے۔
    چنانچہ یہی بات ثابت ہوئی کہ روح کو ایک جسم دیا گیا ہے ، وہ جسم اڑنے والا ہی ہے چاہے ہم اسے پرندے کا نام دیں یا کوئی نام دیں بہرحال وہ ایک جسم ہے جو سن بھی رہا، دیکھ بھی رہا ہے، کھا پی بھی رہا اور اللہ تعالیٰ سے بات بھی کررہا ہے۔ شہدا کو صرف اڑنے والے جسم ہی نہیں دئیے گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح چاہا ہے اسے اس طرح کا جسم دے دیا ہے۔ سمرہ بن جندب ؓ کی بخاری کی طویل حدیث میں نبیﷺ کو شہدا کے گھر دکھائے گئے۔
    ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ثيُوقِدُهَا فَصَعِدَا بِي فِي الشَّجَرَةِ وَأَدْخَلَانِي دَارًا لَمْ أَرَ قَطُّ أَحْسَنَ مِنْهَا فِيهَا رِجَالٌ شُيُوخٌ وَشَبَابٌ وَنِسَائٌ وَصِبْيَانٌ ثُمَّ أَخْرَجَانِي مِنْهَا فَصَعِدَا بِي الشَّجَرَةَ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَاُمَّ فَأَدْخَلَانِي دَارًا هِيَ أَحْسَنُ وَأَفْضَلُ فِيهَا شُيُوخٌ وَشَبَابٌ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( بخاری، کتاب الجنائز )
    ۔ ۔ ۔ ۔ نبی ﷺ نے فرمایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ان دونوں نے مجھے درخت پر چڑھایا اور ہمیں ایسے گھر میں داخل کیا جس سے بہتر اور عمدہ گھر نہیں دیکھا اور اس میں بوڑھے اور جوان آدمی اور عورتیں اور بچے تھے،پھر مجھے اس سے نکال کرلے گئے اور ایک درخت پر چڑھا دیا اور مجھے ایک گھر میں داخل کیا جو بہتر اور عمدہ تھا۔ وہاں بوڑھوں اور جوانوں کو دیکھا، ۔ ۔ ۔ ۔ بعد میں فرشتوں نے بتا یا :
    ۔ ۔ ۔ ۔ وَالدَّارُ الْأُولَی الَّتِي دَخَلْتَ دَارُ عَامَّةِ الْمُؤْمِنِينَ وَأَمَّا هَذِهِ الدَّارُ فَدَارُ الشُّهَدَائِ ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ گھر جس میں تم پہلے داخل ہوتھے عام مومنین کا گھر تھا اور یہ گھر شہداء کا ہے ۔ ۔ معلوم ہوا کہ شہدا کو عین انسانی جسم کی طرح کے جسم بھی دئیے گئے، اور یہ بھی واضح ہوا کہ عام مومنین کو بھی وفات کے بعد قیامت سے پہلے جنت میں انسانی جسم دئیے جاتے ہیں، جیسا کہ اس حدیث سے مزید واضح ہوتا ہے :
    حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَا حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ وَهُوَ ابْنُ عُلَيَّةَ عَنْ أَيُّوبَ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا کَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ کَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضِعًا لَهُ فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ فَکَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَکَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ وَإِنَّ لَهُ لَظِئْرَيْنِ تُکَمِّلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ
    ’’ انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے بال بچوں پر اتنی شفقت کرتے ہوئے کسی کو نہیں دیکھا جتنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بچوں پر شفقت فرمایا کرتے تھے(آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لخت جگر) ابراہیم عوالئی مدینہ میں دودھ پیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں چلے جایا کرتے تھے اور ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر میں بھی چلے جاتے وہاں دھواں ہوتا کیونکہ اس کا خاوند لوہار تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بچے کو لیتے اس سے پیار کرتے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم واپس تشریف لے آتے عمر وکہتے ہیں کہ جب ابراہیم وفات پا گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ابراہیم میرا بیٹا ہے اور وہ رضاعت کی حالت میں ہی وفات پا گیا ہے اب اس کے لئے دو انائیں ( دودھ پلانے والیاں ) ہیں جو اسے جنت میں رضاعت کی مدت پوری ہونے تک دودھ پلائیں گی‘‘۔
    ( مسلم ، کتاب الفضائل، نبیﷺ کا بچوں اور اہل خانہ پر شفقت ۔ ۔ )
    سوچیں ابراہیم ؓ کا جسم تو یہاں دفنایا گیا تھا لیکن اس کی رضاعت جنت میں ہو رہی ہے گویا اس ایک جسم دیا گیا ہے جو دودھ پیتا ہے۔
    معاملہ بالکل واضح ہے کہ دو موتیں دو زندگیوں کا معاملہ مٹی کے بنے اس جسم کیساتھ ہے عالم برزخ میں ملنے والے عارضی جسم کیساتھ زندگی کا دور دو موتوں اور دو زندگیوں میں نہیں آتا۔ خود اللہ تعالیٰ شہدا کے لئے قتل کا لفظ استعمال کر رہا ہے لیکن ساتھ ہی بتا رہا ہے کہ وہ اللہ کے پاس زندہ ہیں۔
     
  2. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,574
    Likes Received:
    803
    Trophy Points:
    98

Share This Page