Ghazal دن کو رہتے جھیل پر دریا کنارے رات کو

Discussion in 'اردو شاعری' started by Anu, Jul 21, 2017.

  1. Anu Designer Fk Designer Text Effects Expert Fk Member

    Messages:
    2,266
    Likes Received:
    553
    Trophy Points:
    98
    دن کو رہتے جھیل پر دریا کنارے رات کو
    یاد رکھنا چاند تارو اس ہماری بات کو

    اب کہاں وہ محفلیں ہیں اب کہاں وہ ہم نشیں
    اب کہاں سے لائیں ان گزرے ہوئے لمحات کو

    پڑ چکی ہیں اتنی گرہیں کچھ سمجھ آتا نہیں
    کیسے سلجھائیں بھلا الجھے ہوئے حالات کو

    کتنی طوفانی تھیں راتیں جن میں دو دیوانے دل
    تھپکیاں دیتے رہے بھڑکے ہوئے جذبات کو

    درد میں ڈوبی ہوئی لے بن گئی ہے زندگی
    بھول جاتے کاش ہم الفت بھرے نغمات کو

    وہ کہ اپنے پیار کی تھی بھیگی بھیگی ابتدا
    یاد کر کے رو دیا دل آج اس برسات کو

    احمد راہی

     
    Smile likes this.
  2. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,614
    Likes Received:
    818
    Trophy Points:
    98
    عمدہ انتخاب
     

Share This Page