حضرت موسیٰ ؑ

Discussion in 'Islamic Discussions' started by Smile, Jan 27, 2018.

  1. Smile Arshi Staff Member Moderator Jr.Designer

    Messages:
    1,606
    Likes Received:
    817
    Trophy Points:
    98
    حضرت سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابنِ عباس رضی اللہ عنہما سے عرض کی کہ نوف بکالی کہتا ہے، کہ وہ موسی علیہ السلام (جو خضر علیہ السلام کے پاس گئے تھے) بنی اسرائیل کے موسیٰ نہیں تھے بلکہ دوسرے موسیٰ(بن میشا) تھے، آپ رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اللہ کا دشمن جھوٹ بول رہا ہے۔ہمیں ابی بن کعب نے بتایا کہ نبیﷺ نے فرمایا: موسی علیہ السلام بنی اسرائیل میں خطبہ ارشاد فرما رہے تھے کہ ان سے پوچھا گیا (اس وقت) سب سے بڑا عالم کون ہے؟ موسی علیہ السلام نے فرمایا میں بڑا عالم ہوں اللہ تعالی کو یہ بات پسند نہ آئی لہذا اللہ تعالی نے وحی کی کہ جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرا ایک بندہ ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے، موسی علیہ السلام نے عرض کی یا اللہ میں اس تک کیسے پہنچ پاؤں گا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ایک مچھلی تھیلے میں رکھ کر سفر شروع کرو جہاں وہ سمندر میں چلی جائے وہاں اس سے ملاقات ہوگی، لہذا موسی علیہ السلام اپنے ساتھی یوشع بن نون کی معیت میں مچھلی ساتھ لیے چل پڑے، جب دونوں ایک چٹان کے پاس پہنچے تو (تھکاوٹ کی وجہ سے) سوگئے اتنے میں مچھلی تھیلے سے نکل کر سمندر میں چلی گئی، وہ دونوں بیدار ہوئے اور سفر شروع کردیا جب صبح ہوئی تو موسی علیہ السلام نے یوشع سے کہا تھکاوٹ ہو گئی ہے ناشتہ لاؤ، انہوں نے بتایا کہ وہ مچھلی تو فلاں چٹان کے پاس سمندر میں چلی گئی تھی مجھے بتانا یاد ہی نہیں رہا ، موسی علیہ السلام نے فرمایا: ہمیں اسی جگہ کی تلاش تو تھی آخر وہ اپنے قدموں کے نشانات دیکھتے دیکھتے اسی جگہ جا پہنچے، کیا دیکھتے ہیں کہ ایک شخص چادر اوڑھے سو رہا ہے، موسی علیہ السلام نے سلام کہا تو خضر جاگ اٹھے اور (بے ساختہ )بولے یہاں سلام کہاں سے آ گیا؟ موسی علیہ السلام نے کہا میں موسی ہوں ، خضر علیہ السلام نے پوچھا کیا بنی اسرائیل کے موسیٰ؟ انہوں نے کہا: ہاں، پھر کہنے لگے میں آپ سے وہ علم کی باتیں سیکھنے آیا ہوں جو اللہ نے آپ کو سکھائی ہیں؟ خضر علیہ السلام نے کہا : آپ صبر نہیں کر سکیں گے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک علم مجھے دیا ہے جو آپ کے پاس نہیں اور ایک علم آپ کو دیا ہے جو میرے پاس نہیں، موسی علیہ السلام نے عرض کی اگر اللہ نے چاہا تو آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے، اور میں کسی کام میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا، آخر دونوں سمندر کے کنارے کنارے روانہ ہوئے ان کے پاس کشتی نہ تھی (کہ سمندر پار کر سکیں) اتنے میں ایک کشتی ادھر سے گزری جنہوں نے خضر علیہ السلام کو پہچان لیا اور بغیر کرایہ ان دونوں کو سوار کرلیا، دورانِ سفر ایک چڑیا کشتی کے کنارے آ کر بیٹھی اور ایک یا دو چونچ پانی پیا اور اُڑ گئی یہ دیکھ کر خضر علیہ السلام نے موسی علیہ السلام سے فرمایا: اے موسیٰ ! میرا اور آپ کا علم اللہ کے علم کے مقابلے میں اتنا ہی ہے جتنا اس چڑیا نے سمندر سے پانی لیا ہے، اتنے میں خضر علیہ السلام نے کشتی کا ایک پھٹا توڑ دیا جس پر موسی علیہ السلام نے کہا انہوں نے ہمیں بغیر کرایہ کے بٹھایا اور آپ نے ان کی کشتی کو نقصان پہنچا کر لوگوں کو ڈبونا چاہا تو خضر علیہ السلام نے کہا میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکیں گے، موسی علیہ السلام نے عرض کی یہ بھول کی وجہ سے ہوا ہے آپ اس پر میری گرفت نہ کریں، آپ ﷺ نے فرمایا یہ پہلا اعتراض موسی علیہ السلام سے بھول ہی کی وجہ سے تھا، پھر وہ آگے چل پڑے وہاں کچھ بچے کھیل رہے تھے جن میں سےایک بچے کو خضر علیہ السلام نے پکڑا اور اس کا سر تن سے جدا کردیا موسی علیہ السلام نے کہا: آپ نے نا حق ایک معصوم کی جان لے لی، خضر علیہ السلام نے کہا میں نے آپ سے کہا نہیں تھا کہ آپ میرے ساتھ صبرنہیں کر سکیں گے، ابن عیینہ کہتے ہیں یہ پہلی بات سے زیادہ سخت ہے، خیر پھر دونوں چلتے چلتے ایک گاؤں میں جا پہنچے اہلِ علاقہ سے کھانا مانگا تو انہوں نے دینے سے انکار کردیا اتنے میں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گرنے والی تھی تو خضر علیہ السلام نے ایک اشارے سےا سے ٹھیک کردیا، موسی علیہ السلام نے کہا اگر آپ چاہتے تو اس کی مزدوری ان سے لے سکتے تھے، خضر نے کہا: بس اب ہم دونوں جدا ہوتے ہیں( آگئے نہیں چل سکتے) نبیﷺنے فرمایا: اللہ تعالیٰ موسی علیہ السلام پر رحم فرمائے کاش! وہ صبر کرتے تو مزید باتوں کا پتہ چلتا، (محمد بن یوسف ) نے کہا کہ ہم سے اس حدیث کو علی بن حشرم نے بیان کیا انہوں نے کہا: ہمیں سفیان ثوری نے خبر دی اسی طرح طویل حدیث کی۔۔
    ( حدیث # 122 ،کتاب العلم، صحیح بخاری )



    @ShahXu @Elena
     
    intelligent086 likes this.
  2. intelligent086 FK Lover FK Lover Member Of The Month

    Messages:
    22,432
    Likes Received:
    2,575
    Trophy Points:
    98
    جزاک اللہ خیراً کثیرا
     
  3. GREAT IQBAL ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    43
    Likes Received:
    5
    Trophy Points:
    8
    [​IMG]
     

Share This Page