Others جس کو حاصل ہے آگہی تیری

Discussion in 'اردو شاعری' started by intelligent086, Dec 19, 2018.

  1. intelligent086 FK Lover FK Lover Member Of The Month

    Messages:
    22,442
    Likes Received:
    2,575
    Trophy Points:
    98
    جس کو حاصل ہے آگہی تیری
    اس پہ رحمت فزوں ہوئی تیری
    خود پہ احسان ہی تو کرتا ہے
    وہ جو کرتا ہے بندگی تیری
    میں اندھیروں کو چیر جاؤں گا
    ہو اگر ساتھ روشنی تیری
    ہر کہہ و مہہ کو جو نوازے ہے
    ہو نظر مجھ پہ بھی وہی تیری
    ٹھیک منزل سے جا ملاتی ہے
    گم رہوں کو بھی رہبری تیری
    چاند سورج ہوں یا وہ ارض و سما
    سب ہی کرتے ہیں بندگی تیری
    تیرے صابرؔ کے سامنے کیوں کر
    ہو نہ مد نظر خوشی تیری

     

Share This Page