Nazam ایک شام

Discussion in 'اردو شاعری' started by SHAAN, Mar 13, 2018.

  1. SHAAN ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    23
    Likes Received:
    9
    Trophy Points:
    3
    [​IMG]

    ایک شام

    یوں تو لمحوں کے اس تسلسل میں
    اب سے پہلے بھی عمر کٹتی تھی
    موم بتی کی روشنی میں نظر
    حافظے کے ورق الٹتی تھی
    ریت کے سوگوار ٹیلوں پر
    چاندنی رات بھر بھٹکتی تھی

    آج لیکن تھکے ھوئے دل پر
    جسم کا تار تار بھاری ھے
    شام کی دم بخود ھواؤں پر
    صبح کا انتظار بھاری ھے

    مقبروں سے اٹھی ھوئی آندھی
    ٹہنیوں سے الجھ کے چلتی ھے
    خشک پلکوں پہ آنسوؤں کی امید
    پے بہ پے کروٹیں بدلتی ھے
    ایک ایک عکس سانس لیتا ھے
    ایک ایک یاد آنکھ ملتی ھے
    جیسے صحرا میں سر جھکائے ھوئے
    حاجیوں کی قطار چلتی ھے

    زرد چنگاریوں کے دامن میں
    یوں سلگتا ھے سرد آتش دان
    جیسے بچوں کی بھوک کے آگے
    ایک نادار باپ کا ایمان

    دم بخود خامشی میں دھیرے سے
    زرد پتے قدم اٹھاتے ھیں
    یاد کے کارواں اندھیرے میں
    خواب کی طرح سرسراتے ھیں
    کھڑکیوں کے ڈرے ہوئے چہرے
    اپنی آہٹ سے کانپ جاتے ھیں

    دل کی قربان گاہ کے آگے
    ایک ٹوٹا ھوا دیا بھی نہیں
    کسی پیپل کے نرم سائے میں
    کوئی پتھر کا دیوتا بھی نہیں
    روح کے کاسۂ گدائی کو
    چار ٹکڑوں کا آسرا بھی نہیں

    لمبی چوڑی سڑک کے دامن پر
    قمقمے سہمے سہمے جلتے ھیں
    جیسے اکثر بڑے گھرانوں میں
    فاقہ کش رشتہ دار پلتے ھیں

    سوچتا ھوں کہ اس دیار سے دور
    ایک ایسا بھی دیس ھے جس کی
    رات تاروں میں سج کے آئے گی
    صبح ہو گی تو گھر کے گوشوں میں
    تیری معصوم مسکراہٹ کی
    نرم سی دھوپ پھیل جائے گی

    مصطفیٰ زیدی
     
    GREAT IQBAL likes this.
  2. GREAT IQBAL ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    43
    Likes Received:
    6
    Trophy Points:
    8
    بہت خـــــــــوب ۔۔۔ بہت عـمـــــــــــدہ
     

Share This Page