Ghazal آئنے عکس کو اوجھل نہیں ہونے دیتے

Discussion in 'FK Poet Club' started by شاہین فصیح ربانی, May 2, 2018.

  1. شاہین فصیح ربانی ηεωвιε ηεωвιε

    Messages:
    13
    Likes Received:
    1
    Trophy Points:
    1
    طرحی غزل

    بے خودی سے مجھے بیکل نہیں ہونے دیتے
    آئنے عکس کو اوجھل نہیں ہونے دیتے

    دل کو دیدار سے مسرور بھی کر دیتے ہیں
    بارشِ رنج مسلسل نہیں ہونے دیتے

    پل تری یاد کے ہیں برف کے گالوں جیسے
    میری تنہائی کو بوجھل نہیں ہونے دیتے

    اپنے ہر خواب کی تعبیر طلب کرتے ہیں
    اور مرا خواب مکمل نہیں ہونے دیتے

    گاہے آواز وہ دے لیتے ہیں ہولے ہولے
    ’’ہوش میں رکھتے ہیں پاگل نہیں ہونے دیتے‘‘

    پھر ملاقات کی صورت بھی نکل آتی ہے
    مسئلے آپ بھی ہم حل نہیں ہونے دیتے

    ضبط کی ان کو سند پھر بھی عطا ہو جاتی
    گر فصیح ایک وہ جل تھل نہیں ہونے دیتے

    شاہین فصیح ربانی
     

Share This Page